دست غیب

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - عموماً روپیہ پیسا، وہ چیز جو غیب سے بغیر کسی ذریعے کے حاصل ہو۔ "دلی والوں میں یہ بھی مشہور تھا کہ مولانا (عبدالسلام نیازی) کو دست غیب ہے۔"      ( ١٩٦٧ء، بزم خوش نفساں، ٥١ ) ٢ - دست غیب کا عمل یا وظیفہ۔ "اب ہم چاہتے ہیں کہ دست غیب یا کیمیا بھی تم کو بتا دیں۔"      ( ١٩٢٩ء، تذکرۂ کاملانِ رامپور، ٩٧ ) ٣ - رشوت، ناجائز آمدنی، رشوت کی کمائی (طنزیہ)۔ "کچھ دست غیب کے طالب ہوئے لیکن مایوس ہو کر بالآخر سب کو تھانے پر پکڑ بلایا۔"      ( ١٩٤٠ء، مضامین رشید، ١٣٠ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'دست' کے بعد کسرۂ اضافت لگا کر عربی زبان سے مشتق اسم 'غیب' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریرا" ١٨٠١ء کو "کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عموماً روپیہ پیسا، وہ چیز جو غیب سے بغیر کسی ذریعے کے حاصل ہو۔ "دلی والوں میں یہ بھی مشہور تھا کہ مولانا (عبدالسلام نیازی) کو دست غیب ہے۔"      ( ١٩٦٧ء، بزم خوش نفساں، ٥١ ) ٢ - دست غیب کا عمل یا وظیفہ۔ "اب ہم چاہتے ہیں کہ دست غیب یا کیمیا بھی تم کو بتا دیں۔"      ( ١٩٢٩ء، تذکرۂ کاملانِ رامپور، ٩٧ ) ٣ - رشوت، ناجائز آمدنی، رشوت کی کمائی (طنزیہ)۔ "کچھ دست غیب کے طالب ہوئے لیکن مایوس ہو کر بالآخر سب کو تھانے پر پکڑ بلایا۔"      ( ١٩٤٠ء، مضامین رشید، ١٣٠ )

جنس: مذکر